دخل اندازی
معنی
١ - مداخلت، روک ٹوک۔ "میں لال قلعہ سے تاج محل تک گیا اور جابجا ماضی کی اقلیم میں بے وقار عصر حاضر کو دخل اندازی کرتے دیکھا" ( ١٩٨٤ء، زمین اور فلک اور، ٢٦ )
اشتقاق
عربی زبان کے لفظ 'دخل' کے ساتھ فارسی مصدر 'انداختن' سے فعل امر 'انداز' بطور لاحقۂ فاعل لگا کر آخر میں 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگائی گئی ہے۔ اردو میں ١٩٤٣ء کو "حیات شبلی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - مداخلت، روک ٹوک۔ "میں لال قلعہ سے تاج محل تک گیا اور جابجا ماضی کی اقلیم میں بے وقار عصر حاضر کو دخل اندازی کرتے دیکھا" ( ١٩٨٤ء، زمین اور فلک اور، ٢٦ )